السبت، 10 ديسمبر، 2016

امریکی انتخابات میں روس نے مداخلت کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوایا، سی آئی اے

0 comments
امریکی صدر اوباما نے صدارتی الیکشن کے دوران سائبر حملوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ فوٹو: فائل
امریکی صدر اوباما نے صدارتی الیکشن کے دوران سائبر حملوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ فوٹو: فائل

واشنگٹن: امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوایا۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سی آئی اے کی جانب سے امریکی حکام کو بتایا گیا ہے کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانا روس کا اولین مقصد تھا۔ سی آئی اے کے مطابق روس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کر کے ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس کی جانب سے الیکشن کے دوران روسی مداخلت کی تحقیقات کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے بعد گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران ہونے والے سائبر حملوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ دوسری جانب نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی آئی اے کی جانب سے انہیں جتوانے کے لئے روسی مدد کی تردید کردی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ الیکشن جتوانے میں روسی مدد کی بات کرنے والے وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ صدام حسین نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار (ڈبلیو ایم ڈیز) جمع کر رکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتخابات تاریخ کی سب سے بڑی الیکٹورل کالج فتح کے ساتھ کافی پہلے ختم ہو چکے ہیں لہذا امریکا کو ایک بار پھر سے عظیم بنانے کے لئے آگے چلا جائے۔ سائبر حملوں کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہیکنگ روس سے بھی ہو سکتی ہے، چین سے بھی اور نیو جرسی میں بیٹھ کر بھی کوئی شخص ہیکنگ کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ریبلپکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کو واضح مارجن سے شکست دی تھی جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد امریکا میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جن کا کہنا تھا کہ معتصب شخص امریکا کا صدر نہیں ہو سکتا۔

خیبرایجنسی کے غاروں کی دیواروں پر30 ہزارسال قدیم پینٹنگزکی دریافت

0 comments
علاقے میں ایسے 110 مقامات دریافت ہوئے جن کا تعلق قبل از تاریخ، بدھ، اسلامی اور برطانوی عہد سے ہے۔
 (فوٹو: ایکسپریس ٹریبیون)
علاقے میں ایسے 110 مقامات دریافت ہوئے جن کا تعلق قبل از تاریخ، بدھ، اسلامی اور برطانوی عہد سے ہے۔ (فوٹو: ایکسپریس ٹریبیون)

پشاور: خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں 110 مقامات سے غاروں کی دیواروں پر ایسی تصاویر دریافت ہوئی ہیں جو آج سے 30 ہزار سال پہلے بنائی گئی تھیں۔
ایجنسی کے سیاسی منتظمین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ پر مشتمل ایک ٹیم نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ انہیں جمرود کے غاروں سے قبل از تاریخ (پری ہسٹری) کے زمانے سے تعلق رکھنے والے ایسے آثار ملے ہیں جنہیں بلاشبہ دنیا کی مشترکہ تمدنی میراث (ورلڈ ہیریٹیج) میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
یہ سروے ڈائریکٹر خیبر پختونخوا آرکیالوجی اینڈ میوزیمز عبدالصمد کی نگرانی میں کیا گیا۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ غاروں میں چٹانوں پر بنی ہوئی یہ تصاویر 30 ہزار سال قدیم ہیں، یعنی اس زمانے سے تعلق رکھتی ہیں جب انسانی تہذیب شروع بھی نہیں ہوئی تھی اور (ارتقائی نقطہ نگاہ سے) انسان غاروں میں رہتا تھا اور جانوروں کا شکار کرکے کھاتا تھا۔
خیبر ایجنسی کی سیاسی انتظامیہ کے مطابق اس نے مذکورہ علاقے کا آثاریاتی (آرکیولاجیکل) جائزہ ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا تھا جس میں انہیں خیبر پختونخوا میں ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی (صوبائی محکمہ آثارِ قدیمہ) کی تکنیکی معاونت حاصل تھی۔
اس سروے کے دوران ایسے 110 مقامات دریافت ہوئے جن کا تعلق قبل از تاریخ، بدھ، اسلامی اور برطانوی عہد سے ہے۔ ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں سروے کا دائرہ تیراہ اور باڑہ کی تحصیلوں تک پھیلادیا جائے گا۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اگرچہ مذکورہ سروے کے دوران متعدد آثارِ قدیمہ کا انکشاف ہوا لیکن فاٹا سیکریٹریٹ اور پولیٹیکل انتظامیہ دونوں میں سے کسی کے پاس بھی نہ تو آثارِ قدیمہ کے ماہرین ہیں، نہ ضروری فنڈز ہیں اور نہ کوئی ایسا خصوصی محکمہ ہی موجود ہے جو ان مقامات کو محفوظ کرتے ہوئے انہیں سیاحتی مرکز میں تبدیل کرسکے۔
خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل ایڈمنسٹریٹر خالد محمود کا کہنا تھا کہ یہ ایجنسی میں سیاسی انتظامیہ کی بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ ماضی میں اس حوالے سے خیبر ایجنسی پر کوئی کام نہیں ہوا تھا۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں قبل از تاریخ سے تعلق رکھنے والی یہ کوئی پہلی دریافت ہر گز نہیں کیونکہ وادی سوات سمیت صوبہ خیبر پختونخوا میں کئی مقامات سے غاروں کی دیواروں پر بنی ہوئی ایسی پینٹنگز دریافت ہوتی رہی ہیں جس کے باعث توقع ہے کہ خیبر ایجنسی کی دوسری تحصیلوں سے قبل از تاریخ کے اور بھی آثارِ قدیمہ دریافت ہوں گے۔

قطبین پر بھارت کے رقبے سے بھی زیادہ برف غائب ہوگئی، سائنسدان

0 comments
اس سال نومبر میں قطبین پر برف کا کم ترین رقبہ ریکارڈ کیا گیا جو ماحولیاتی نقطہ نگاہ سے انتہائی تشویش ناک ہے۔ فوٹو؛ فائل
اس سال نومبر میں قطبین پر برف کا کم ترین رقبہ ریکارڈ کیا گیا جو ماحولیاتی نقطہ نگاہ سے انتہائی تشویش ناک ہے۔ فوٹو؛ فائل

کراچی: قطب شمالی اور جنوبی پر تحقیق کرنے والے مختلف بین الاقوامی اداروں نے کہا ہے کہ اس سال نومبر میں قطبین پر برف کی کم ترین مقدار ریکارڈ کی گئی ہے جو عالمی ماحول کے نقطہ نگاہ سے انتہائی تشویش ناک ہے۔
قطبین (یعنی آرکٹک اور انٹارکٹیکا) پر قائم امریکا، جرمنی، ہالینڈ، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک کے علاوہ بین الاقوامی موسمیاتی اسٹیشنوں نے مشترکہ طور پر یہ انکشاف کیا ہے کہ اس سال نومبر کے مہینے میں قطبین پر 37 لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر جتنی برف کم ہوئی ہے جو بھارت کے رقبے سے بھی زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار تشویش ناک ہیں لیکن ان کے لیے حیران کن ہر گز نہیں کیونکہ اس سال قطب شمالی (آرکٹک) پر پہلے ہی نومبر میں معمول سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ جرمن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سال نومبر میں قطب شمالی پر برف کا مجموعی رقبہ 90 لاکھ 80 ہزار مربع کلومیٹر ریکارڈ کیا ہے جو اب تک نومبر میں آرکٹک پر برف کا سب سے کم رقبہ بھی ہے۔
اس سے پہلے نومبر کے مہینے میں قطبین پر کم ترین برف کا عالمی ریکارڈ 2006 میں قائم ہوا تھا لیکن اس سال برف کی کمی نے اسے بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
یاد رہے کہ قطبین پر مسلسل پگھلتی ہوئی برف عالمی ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 100 سال کے دوران سمندر کی سطح میں 20 سینٹی میٹر (8 انچ) تک کا اضافہ ہوچکا ہے جس کی وجہ زمین پر مسلسل بڑھتی ہوئی انسانی سرگرمیاں اور نتیجتاً مسلسل بڑھتی ہوئی آلودگی ہیں۔ خدشہ ہے کہ اگر قطبین کی ساری برف پگھل گئی تو دنیا بھر میں سمندروں کی سطح آج کے مقابلے میں 216 فٹ (66 میٹر) تک بلند ہوجائے گی اور سارے کے سارے ساحلی شہر ڈوب جائیں گے۔
ماہرین کے مطا بق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور قطبین پر تیزی سے کم ہوتی ہوئی برف کے نئے سے نئے ریکارڈ اسی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اگر زمینی ماحول درست کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خطرناک موقع شاید ہماری توقعات سے بہت پہلے ہی آجائے گا۔

سوشل میڈیا پوسٹس آپ کی ذہنی حالت ظاہرکرتی ہیں، تحقیق

0 comments
جو لوگ سوشل میڈیا پر منفی پوسٹیں شیئر کراتے ہیں انہیں دماغی صحت کا معائنہ کروانا چاہیے۔ فوٹو؛ فائل
جو لوگ سوشل میڈیا پر منفی پوسٹیں شیئر کراتے ہیں انہیں دماغی صحت کا معائنہ کروانا چاہیے۔ فوٹو؛ فائل

ملبورن: ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو سوشل میڈیا پر منفی تاثر پیدا کرنے والی پوسٹیں شیئر کراتے ہیں انہیں اپنی دماغی صحت کا معائنہ کروانے کے لیے فوری طور پر کسی معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر کیے گئے 70 مطالعات کا تجزیہ کرنے کے بعد موناش یونیورسٹی اور ملبورن یونیورسٹی کے ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ساری خرابیوں کا الزام سوشل میڈیا پر ڈالنا درست نہیں کیونکہ اچھی اور مثبت سوچ رکھنے والے لوگ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اچھی چیزوں ہی میں اپنے احباب کو شریک کرتے ہیں جب کہ وہ لوگ جو کسی دماغی بیماری یا نفسیاتی کیفیت کا شکار ہوتے ہیں وہ عام طور پر منفی اور غلط تاثر پیدا کرنے والی چیزیں یہاں شیئر کرتے ہیں اور ایسی ہی پوسٹوں کو پسند بھی کرتے ہیں۔
اس تحقیق کا خلاصہ صرف اتنا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں یہ بات زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ صارف کی اپنی ذہنی حالت کیسی ہے؛ اور یہ کہ تواتر سے منفی پوسٹیں کرانے والوں کو نفسیاتی معالج سے معائنے کروانے کا مشورہ بھی دیا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے فیس بُک، ٹوئٹر اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیے گئے 70 مطالعات کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ جو صارفین مثبت سوچ رکھنے والے احباب کے ساتھ (سوشل میڈیا کے ذریعے) رابطے میں رہتے ہیں ان کی ذہنی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جب کہ یہ انداز ان کے ذہنی طور پر صحت مند ہونے کا ایک ثبوت بھی ہوتا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اگر آپ ذہنی طور پر صحت مند ہیں تب بھی دوسروں سے اپنا مسلسل موازنہ کرتے رہنا آپ میں بے چینی، بے اطمینانی اور ڈپریشن جیسے نفسیاتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ یعنی حقیقی زندگی کی طرح سوشل میڈیا بھی ہم پر اثرات مرتب کرتا ہے۔
علاوہ ازیں اگر کوئی شخص کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل اپنے احباب سے رابطے میں بھی ہے تو وہ اپنی پوسٹوں، شیئرز، اسٹیٹس اپ ڈیٹس اور تاثرات کے ذریعے دوسروں کو بھی اس بیماری کے اثرات میں مبتلا کررہا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر آپ اپنے کسی بھی دوست کو سوشل میڈیا پر ایسے مزاج کا مظاہرہ کرتے دیکھیں تو اس سے قطع تعلق نہ کریں بلکہ اسے ڈاکٹر سے ملاقات کا مشورہ دیں۔

الجمعة، 9 ديسمبر، 2016

ابوظہبی سے لاہور آنے والے پی آئی اے کے طیارے سے پرندہ ٹکرا گیا

0 comments
پرندہ جہاز کی فرنٹ اسکرین سے ٹکرایا جس سے اسکرین کو معمولی نقصان پہنچا، فوٹو؛ فائل
پرندہ جہاز کی فرنٹ اسکرین سے ٹکرایا جس سے اسکرین کو معمولی نقصان پہنچا، فوٹو؛ فائل

 لاہور: ابو ظہبی سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی پرواز سے پرندہ ٹکرا گیا جس سے طیارے کی اسکرین کو معمولی نقصان پہنچا تاہم پرواز کو بحفاظت اتار لیا گیا۔
 ابوظہبی سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 264 سے لینڈنگ کے وقت پرندہ ٹکرا گیا۔ ذرائع کے مطابق پرندہ طیارے کی فرنٹ اسکرین سے ٹکرایا جس کے باعث اسکرین کو معمولی نقصان پہنچا جب کہ پرندہ ٹکرانے سے جہاز معمولی طور پر عدم توازن کا شکار ہوا جس سے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تاہم طیارے کو بحفاظت لاہور ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پی آئی اے کی پرواز حویلیاں کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار عملے سمیت 47 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ طیارے میں معروف نعت خواں جنید جمشید بھی اپنے اہلیہ کے ہمراہ سوار تھے۔

شام میں داعش نے حکومت کے حمایتی 26 اہلکاروں کو ہلاک کردیا

0 comments
 داعش نے حمص کے علاقے مہر اور شار میں آئل اینڈ گیس کے مراکز پر حملے کئے،غیرملکی خبررساں ایجنسی۔ فوٹو:فائل
داعش نے حمص کے علاقے مہر اور شار میں آئل اینڈ گیس کے مراکز پر حملے کئے،غیرملکی خبررساں ایجنسی۔ فوٹو:فائل

دمشق: شام کے شہر حمص میں داعش نے کارروائی کرتے ہوئے حکومت کے حامی 26 اہلکاروں کو قتل کردیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق داعش نے حمص کے علاقے مہر اور شار میں آئل اینڈ گیس کے مراکز پر حملے کئے جس کے بعد حکومت کی حامی فورسز اور داعش کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی جب کہ شام میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق داعش نے 26 اہلکاروں کو قتل کردیا۔ شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ داعش نے حکومتی فورسز کے زیرکنٹرول 7 چیک پوائنٹس پر قبضہ کرلیا جب کہ علاقے میں داعش مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔
شام میں کام کرنے والی غیرملکی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ داعش کو فوری طور پر پیش قدمی سے نہ روکا گیا تو کئی علاقے حکومت کی دسترس سے جا سکتے ہیں، داعش کے شہر حمص کے صحرائی علاقوں پر بھی قبضہ ہے جب کہ روزانہ کی بنیاد پر داعش کی جانب سے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ حکومت کے زیر کنٹرول آئل فیلڈ پر حملے کئے جارہے ہیں۔

بالی ووڈ بھی جنید جمشید کی موت پر سوگوار

0 comments
طیارہ حادثے نے ہم سے جنید جمشید جیسے انسان کو چھین لیا ہے، رشی کپور کی ٹوئٹ، فوٹو؛ فائل
طیارہ حادثے نے ہم سے جنید جمشید جیسے انسان کو چھین لیا ہے، رشی کپور کی ٹوئٹ، فوٹو؛ فائل

ممبئی: بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار رشی کپور نے گزشتہ روز حویلیاں کے مقام پر طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے معروف نعت خواں جنید جمشید کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
بالی ووڈ اسٹار رشی کپور نے گزشتہ روز طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رشی کپور کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ پی آئی اے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے سوگواران کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور اس واقعے نے ہم سے جنید جمشید جیسے انسان کو چھین لیا ہے۔
View image on Twitter
RIP. My Condolences to the bereaved families of the PIA Flight crash. We lost an artist in Junaid Jamshed. May God Bless all! Ameen
اس خبر کو بھی پڑھیں: جنید جمشید کی آخری ٹوئٹ
بالی ووڈ اداکارہ صوفی چوہدری نے بھی جنید جمشید کی موت پر رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ کم عمری میں ان کے ساتھ گیت گایا ہے اور یہ پاپ کے آئیکون سمجھے جاتے تھے لہٰذا جنید جمشید سمیت تمام جاں بحق افراد کے لیے دعاگو ہوں۔
So sad! As a teen I sang on the album my mentor Biddu produced for him. He was a pop icon! Prayers for  & all the victims. RIP https://twitter.com/chintskap/status/806572765121691648 

واضح رہے کہ  گزشتہ روز پی آئی اے کا چترال سے اسلام آباد جانے والا طیارہ پرواز حویلیاں کے مقام پر گر کر تباہ ہوگیا جس میں عملے کے ارکان سمیت 47 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ طیارے میں معروف نعت خواں جنید جمشید بھی اہلخانہ کے ہمراہ سوار تھے۔

بلبلے میں مکان بنا کر رہنے والا عجیب و غریب سمندری جانور

0 comments
مونٹیری کے قریب سمندر میں ایک ایسا عجیب و غریب جانور دیکھا گیا ہے جو شفاف بلبلے جیسا مکان بناکر رہتا ہے۔
مونٹیری کے قریب سمندر میں ایک ایسا عجیب و غریب جانور دیکھا گیا ہے جو شفاف بلبلے جیسا مکان بناکر رہتا ہے۔

کیلیفورنیا: مونٹیری کے قریب سمندر میں ایک ایسا عجیب و غریب جانور دیکھا گیا ہے جو اپنے گرد شفاف بلبلے جیسا مکان بناکر رہتا ہے۔
یہ دریافت ’’مونٹیری بے ایکویریئم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘‘ کیلیفورنیا کے ماہرین نے کی ہے اسے 1900 کے بعد صرف دوسری بار دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جانور کا تعلق ’’لارویشیئن‘‘ کہلانے والے سمندری جانوروں سے ہے اور اسے ’’جائنٹ لارویشیئن‘‘ کہا جاتا ہے۔
اگرچہ مینڈک کے ٹیڈپول جیسی شکل والا یہ جانور صرف 3.5 انچ جسامت کا ہوتا ہے لیکن پروٹین اور سیلولوز پکڑنے کےلئے جو ’’گھر‘‘ یہ اپنے گرد بناتا ہے وہ کئی فٹ تک چوڑا ہوتا ہے۔ یہ گھر اس کے ساتھ ساتھ حرکت میں رہتا ہے اور اس کی باریک اور شفاف جھلی میں سے یہ اپنے غذائی اجزاء فلٹر کرکے کھاتا رہتا ہے۔
جب یہ گھر مزید فلٹریشن کے قابل نہیں رہتا (یعنی ناکارہ ہوجاتا ہے) تو جائنٹ لارویشیئن اسے چھوڑ کر ایک نیا گھر بناتا ہے اور بعض مرتبہ صرف چند گھنٹوں ہی میں نیا گھر تیار کرلیتا ہے۔
آبی حیات کے ماہرین نے جائنٹ لارویشیئن کی سائنسی وضاحت پہلی بار 1900 میں شائع کروائی تھی جو 1890 کے عشرے میں اس کے مشاہدات پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد یہ دوبارہ کبھی دکھائی نہیں دیا اور سمجھ لیا گیا کہ شاید یہ ناپید ہوچکا ہے۔ لیکن 116 سال بعد اس کی ازسرِنو دریافت نے ماہرین کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ اس دریافت سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ آبی جانداروں پر ہمارے مطالعات ابھی بہت محدود ہیں جنہیں وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

چہرے کوشناخت کرنے والی ایپ تیار

0 comments
پلبر ایپ دو سے تین ہفتے میں لانچ کردی جائے گی۔ فوٹو: بشکریہ بلپر


پلبر ایپ دو سے تین ہفتے میں لانچ کردی جائے گی۔ فوٹو: بشکریہ بلپر

لندن: بہت جلد اسمارٹ فون میں ایک ایپ کے ذریعے آپ کسی بھی ویڈیو یا تصویر کو دیکھ کراسے شناخت کرسکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ انٹرنیٹ پرموجود ہو۔
لندن کی ایک فرم نے ’’پلِبرایپ‘‘ بنائی ہے جو فوراً ہی کسی تصویرکو انٹرنیٹ پرموجود اکاؤنٹس اور ڈیٹا بیس سے ملاتی ہے اور اس کی تفصیل سامنے لے آتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ایپ ’’آگمینٹڈ ریئلٹی‘‘ کے ذریعے کسی چلتی ہوئی ویڈیو اور اخبار کی تصویر کو بھی شناخت کرلیتی ہے۔
تصویر شناخت کرتے دوران یہ ایپ سوشل میڈیا پروفائل کو بھی ظاہر کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے کھلاڑیوں، فنکاروں اور سیاستدانوں وغیرہ کو فوری طورپرپہچان لیتی ہے لیکن صارف خود اپنے چہرے کی شناخت بھی کرسکتے ہیں۔ پلِبر ایپ کے بانی  امبریش مترا کہتے ہیں کہ آگمینٹڈ ریئلٹی سے اشیاء اور چہرے شناخت کرنے کا نظام رابطوں کو انقلابی طور پر تبدیل کردے گا۔  وجہ یہ ہے کہ ہمارا چہرہ ہی سب سے بڑی شناخت ہے اوریہ ایپ اسے ہی استعمال کرتی ہے۔
مترا کے بقول اس طرح لوگ ایک دوسرے سے بہت تفریحی انداز میں رابطہ کرسکیں گے اوردوسروں کی پسند اور ناپسند کی بنا پردوستیاں قائم ہوسکیں گی۔ اسی طرح کوئی اخبار، کسی برانڈ کا فاسٹ فوڈ یا کسی گاڑی کے ماڈل کی تصویرپراس سے وابستہ تمام معلومات پاپ اپ ہوکرسامنے ظاہرہوجائیں گی۔
تصویرپرمعلومات میں ’معلوماتی گراف‘ بھی سامنے آجاتا ہے جس سے آپ پسندیدہ اشیا نکال کر اسے اپنے پروفائل میں شامل کرسکیں گے۔ ایپ کی لانچ کے ساتھ ہی اس سے 70 ہزار سے زائد موسیقاروں، فنکاروں، مصنفین، سائنسداں اور کھلاڑی حضرات کی معلومات اور دیگر تصاویر کو شناخت کرکے پیش کیا گیا ۔ اس طرح شخصیات بالکل فیس بک پروفائل کی طرح اپنی آگمینٹڈ ریئلٹی پروفائل بھی بناسکتے ہیں۔
اس ایپ پر مزید کام جاری ہے اور توقع ہے کہ اگلے دو ہفتوں میں اسے منظرِ عام پر پیش کردیا جائے گا۔

الخميس، 8 ديسمبر، 2016

طیارہ حادثہ؛ جنید جمشید سمیت 42 مسافروں کی تاحال شناخت نہ ہو سکی

0 comments
تمام میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ورثا کے حوالے کی جائیں گی، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری. فوٹو: فیس بک
تمام میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ورثا کے حوالے کی جائیں گی، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری. فوٹو: فیس بک

 اسلام آباد: پی آئی اے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 42 مسافروں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی جس میں جنید جمشید اور ڈی سی چترال بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے دکھ  میں برابر کے شریک ہیں اور کوشش ہے کہ تمام ورثا کو ان کے پیاروں کی میتیں جلد از جلد  شناخت کے بعد حوالے کردی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 42 مسافروں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، تمام میتیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ورثا کے حوالے کر دی جائیں گی اور اس سارے عمل میں 6 سے 8 روز لگیں گے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے جن مسافروں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے ان میں معروف نعت خواں جنید جمشید اور ڈی سی چترال بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز چترال سے اسلام آباد جانے والے پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں جنید جمشید اور ڈی سی چترال سمیت 47 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔